21 فروری 2026 - 04:13
اس فیصلے سے ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں پر کیا اثر پڑے گا؟

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے عالمی ٹیرف ( محصولات ) کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ نے 1970 کی ہنگامی قانون (IEEPA) کا غلط استعمال کرتے ہوئے ٹیرف عائد کیے تھے، جبکہ ٹیکس لگانے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے ۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، اس فیصلے کے نتیجے میں ٹرمپ کی پالیسیوں پر درج ذیل اثرات مرتب ہوں گے:

  • معاشی اثر: اس فیصلے سے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کی ٹیرف آمدن ختم ہو گئی ہے جس سے وفاقی خسارے پر اثر پڑے گا ۔
  • رد عمل: ٹرمپ نے فوری طور پر ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 122 کے تحت 10 فیصد نیا عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم یہ صرف 150 دن کے لیے ہو گا ۔
  • کمزور پوزیشن: اس فیصلے سے بین الاقوامی مذاکرات میں ٹرمپ کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے کیونکہ اب وہ فوری طور پر بڑے ٹیرف کی دھمکی نہیں دے سکتے ۔
  • رقم کی واپسی: ان ٹیرف کے تحت جمع کی گئی رقم کی واپسی کا عمل طویل اور پیچیدہ ہو گا جس پر لوئر کورٹ میں مقدمات چلیں گے ۔

ٹرمپ کی سیاسی اندرونی و بیرونی ساکھ پر کیا اثر ہوگا

سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے سے ٹرمپ کی اندرونی اور بیرونی ساکھ پر واضح منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ ان کی دوسری مدت صدارت کی سب سے بڑی قانونی شکست ہے ۔

ذیل میں ان اثرات کی تفصیل درج ہے:

اندرونی ساکھ پر اثرات

  • تاریخی شکست اور غصہ: یہ ٹرمپ انتظامیہ کو سپریم کورٹ میں سب سے بڑی شکست ہے ۔ ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کے اکثریتی ججز کو "بیوقوف اور کٹھ پتلی" قرار دیا اور اپنے ہی مقرر کردہ ججز پر شرمندگی کا اظہار کیا ۔
  • عوامی حمایت میں کمی: فیصلے سے قبل ہی جاری کردہ ایک سروے (مثال کے طور پر مارکیٹ لا اسکول پول) کے مطابق ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی پر عوامی حمایت محض 37 فیصد تھی اور 62 فیصد عوام نے اسے مسترد کیا تھا ۔ اس فیصلے سے ان کی پالیسی مزید غیر مقبول ہوئی ہے ۔
  • اپنی ہی پارٹی میں تنقید: ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بھی ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی پر تنقید ہوئی ہے۔ سابق نائب صدر مائیک پینس نے فیصلے کو "عوام کی فتح" قرار دیا ۔ سینیٹر مچ میک کونل جیسے سینئر ریپبلکن رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کی کانگریس کو نظرانداز کرنے کی کوشش کو "غیر قانونی" قرار دیا ۔

بیرونی ساکھ پر اثرات

  • مذاکراتی طاقت کمزور: ٹیرف ٹرمپ کی سفارت کاری کا سب سے بڑا ہتھیار تھا، جو اب چھن گیا ہے۔ دوسرے ممالک کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں پر اب سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔
  • عالمی رہنما خوش: ٹرمپ نے خود تسلیم کیا کہ غیر ملکی اس فیصلے پر "خوشی منا رہے ہیں"۔ اس سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ اور قیادت متاثر ہوئی ہے ۔

آگے کا راستہ (ممکنہ متبادل)

ٹرمپ نے فیصلے کے فوراً بعد ایک نیا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • نیا ٹیرف: انہوں نے "ٹریڈ ایکٹ 1974" کے سیکشن 122 کے تحت 10 فیصد نیا عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
  • عارضی ٹیرف: تاہم، یہ نیا ٹیرف صرف 150 دنوں کے لیے نافذ رہ سکتا ہے، جس کے لیے طویل مدت کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی ۔

خلاصہ یہ کہ اس فیصلے نے ٹرمپ کی اندرونی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی بیرونی سفارتی طاقت کو کمزور کیا ہے، جس سے وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کمزور پوزیشن میں آگئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: ابو فرورہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha